مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین اسلامی جمہوری ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور ہے اور آج بھی عالم اسلام کا اولین مسئلہ شمار ہوتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، صدر پزشکیان نے خلیل الحیہ کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارک باد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ فلسطینی عوام اور غزہ کے مظلوم باشندوں کی خدمت اور ان کی عزت و سربلندی کے لیے مؤثر کردار ادا کریں گے۔
ایرانی صدر نے شہدائے فلسطین، خصوصا شہید اسماعیل ہنیہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ ایران کے دورے کے دوران ان کی شہادت صہیونی حکومت کا ایک بزدلانہ اور مجرمانہ اقدام تھا۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی استقامت اور مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اور قیادت ہمیشہ فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور اسلامی جمہوری ایران اپنی استطاعت کے مطابق فلسطینی قوم کی حمایت جاری رکھے گا۔
صدر پزشکیان نے فلسطینی دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی کے لیے خلیل الحیہ کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ ایران فلسطینی قیادت کی جانب سے مذاکراتی عمل میں کیے جانے والے ہر مثبت فیصلے اور اقدام کی حمایت کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور صہیونی جارحیت کے باوجود مسئلہ فلسطین ایران کی خارجہ پالیسی میں اپنی مرکزی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور یہ اب بھی عالم اسلام کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔
ایرانی صدر نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ امت مسلمہ کے مشترکہ مفادات کے دفاع کے لیے اتحاد، ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ ایران آئندہ بھی فلسطینی عوام کی ہر ممکن حمایت جاری رکھے گا۔
دوسری جانب حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے ایران کی جانب سے فلسطینی عوام کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہید اسماعیل ہنیہ کی ایران میں شہادت امت مسلمہ کے مشترکہ مؤقف اور فلسطینی کاز سے وابستگی کی علامت ہے۔
خلیل الحیہ نے خطے کی حالیہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے صہیونی حکومت کو علاقائی عدم استحکام کا بنیادی سبب قرار دیا اور کہا کہ امریکی حمایت کے باوجود یہ صہیونی حکومت زوال کی جانب بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے ایران کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے خطے میں نئے توازن قائم کیے ہیں، جن کے مثبت اثرات ایران، خطے اور عالم اسلام کے حق میں ہوں گے۔
آپ کا تبصرہ